swaal-W-Jawaab

سوال 1 : مولانا صاحب میں ایک لڑکی کو بہت دن سے چاہتا تھا مگر جب شادی کا وقت آیا تو اس نے انکار کر دیا اب میں کیا کروں ؟

جواب : میں ایسے تمام لڑکوں اور لڑکیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے وہ ایک بات نوٹ کر لیں کہ 60/ فیصد لڑکے اور لڑکیاں ایسے ہیں کہ جہاں وہ شادی کرنا چاہتے ہیں وہاں نہیں ہوتی

اگر کسی لڑکے اور لڑکی کا ایسا معاملہ ہوا اور عین شادی کے وقت کسی نے انکار کر دیا تو اس بات کو جان لیں کہ جو پروردگار عالم تمہیں تمہارے والدین (parents) سے زیادہ چاہتا ہے، وہی نہیں چاہ رہا ہے کہ تمہاری شادی اس سے ہو

اب یقینی بات ہے کہ انکار کی وجہ یا تو لڑکی خود ہوگی یا اس کے والدین ہوں گے ۔ یا لڑکا ہوگا یا اس کے والدین ہوں گے لیکن حقیقت میں اللہ ہی نہیں چاہ رہا ہے

لہذا جب اس طرح کا failure ( ناکامی ) ہوجائے تو یہ سمجھیں کہ اسی میں اللہ تعالی نے بھلائی رکھی ہے


میں آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ سناتا ہوں جو تقریبا 5 ماہ پہلے کا ہی ہے ایک لڑکی کا تقریباً 20 سال سے affair ( معاملہ) چل رہا تھا اور عین موقع پر لڑکے والوں نے انکار کردیا لڑکی بہت اپ سیٹ (upset) ہوگئی، مجھے فون کیا، وہ ہمارے گروپ میں بھی شامل تھی تو رونے لگی میں نے ان سے کہا : دیکھیے آپ کے لیے اللہ تعالی نے اسی میں بہتری رکھی ہے انہوں نے یہاں تک کہا : مولانا ! میں خود کشی کرلوں گی میں نے بہت سمجھایا خیر وہ 90/ فیصد تک مطمئن ہو گئی اس کے بعد ہم نے کہا : ہم بھی آپ کے لیے دعا کرتے ہیں آپ کہیں اور اپنی شادی کرلیں لڑکی بہت پڑھی لکھی تھی 32/ سال تک پڑھتی ہی رہی تھی گھر والوں نے دیکھا کہ پہلے بہت اپ سیٹ تھی اب بہت مطمئن ہے تو پوچھا کوئی تعویذ وغیرہ لی ہے کیا ؟ تو اس نے کہا نہیں، مولانا احمد سراج صاحب فیض آبادی سے میں نے ساری باتیں کہیں تو انہوں نے سمجھایا کہ اسی میں تمہاری بھلائی ہے تو میں اللہ پر ہی منحصر ہوگئی کہ اب اللہ جہاں میری شادی کرے گا میں راضی ہوں خیر اس کی شادی ہو گئی اور جس لڑکے سے وہ اور گھر والے سبھی لوگ پہلے شادی کرنا چاہتے تھے اس کا اس لڑکی کی شادی کے محض چھ دن بعد ہی ایکسیڈینٹ (accident) میں انتقال ہوگیا